Pages

پیر، 20 اپریل، 2015

ہونہار بروا-5

ہم مری سے باڑیاں گئے ایک رات میس میں ٹہرے ۔وہاں نعیم کے چار پانچ کورس میٹ آئے ہوئے تھے۔میجر وقار ان کے PMAمیں روم میٹ تھے اور بہترین میوزک بجانا جانتے تھے، رات کو انہوں نے محفل گرم رکھی کافی غزلیں سنائیں، بچوں نے بھی چھوٹے موٹے گانے سنائے۔ عروضہ نے پیانو، سوہنی دھرتی اور جیوے جیوے پاکستان سنایا، وقار کافی حیران ہوا کہ اور بولا،”نعیم! تمھیں دو سال میں میرے ساتھ رہنے کے باوجود ایک سر بجانا نہیں آیا۔ بھئی حیرت ہے“۔ نعیم نے پیانو اپنی طرف کھسکا کر یہی دونوں نغمے سنا کر سب کو حیران کر دیا۔
مئی 1991کا ذکر ہے نعیم کی پوسٹنگ کوئیٹہ ہوگئی، ہم 8مئی کو میرپورخاص،سب سے ملنے حیدرآباد سے جارہے تھے۔ کار میں، نعیم، میں، چاروں بچے، میرے امی، ابا اور لقمان بھائی کا بیٹا جواد تھے۔ جو کراچی سے 5مئی کو نعیم کے ساتھ حیدرآباد آئے تھے۔  ڈیتھا سے گذرنے کے بعد نعیم نے گاڑی میں پیٹرول ڈلوایا۔ اور میں روڈ پر آگئے تھوڑی دور جانے کے بعد، سامنے سے ایک ٹرک آتادکھائی دیا، جو سڑک کے بیچوں بییچ آرہا تھا، نعیم کے مطابق انہوں نے اُسے لائیٹ دکھائی۔ جس کا مطلب تھا کہ اپنی سائیڈ پر ہو جاؤ۔ ٹرک ڈرائیور، ٹرک کو مزید ہماری طرف لے آیا نعیم نے کار کو بچایا مگر بچاتے بچاتے کا ر ٹرک کے پچھلے ٹائر کو لگی، پہلے تو سمجھ ہی نہیں آیا کہ کیا ہوا ہوش آیا تو، سارے لوگ کار کے گرد جمع تھے۔نعیم بری طرح پھنسے ہوئے تھے، اُن کا سر شیشے پر لگنے سے زخمی ہو گیا۔نعیم کو سیٹ پیچھے لٹا کر کھینچ کر نکالا۔ کار سیدھی طرف سے بری طرح تباہ ہو چکی تھی۔ میرے چہرے پر چوٹیں آئیں، بڑے بیٹا ارسلان جو نعیم کے پیچھے امی کو گود میں بیٹھا تھا اُس کی بائیں آنکھ میں شیشے اُڑ کر لگے اور الٹا پاؤں نعیم کی سیٹھ میں پھنس کر پیچھے سے کٹ گیا۔ ابو کی کالر بون ٹوٹ گئی   اتنے میں رینجر کے کرنل نور آگئے۔ یہ نعیم کی یونٹ میں رہے تھے انہوں نے ہم سب کو CMHحیدر آباد پہنچایا۔کار کو دوسرے ٹرک میں لاد کر یونٹ پہنچوایا اور جس ٹرک نے مارا تھا اُسے۔ گھسیٹ کر رینجر کے احاطے ٹنڈوآدم میں کھڑا کر دیا۔ 
ایمر جنسی وارڈ میں، معلوم ہو ا کہ نعیم سے سر میں شدید چوٹیں آئی ہیں ان کی یاداشت تھوڑی تھوڑی دیر بعد کھو جاتی ہے۔یہ تین دن تک اِسی حالت میں رہے۔ میرپورخاص سے سارے رشتہ دار، دوست اور جاننے والے ملنے آئے۔اِن کے ہمزاد دوست، سلیم آزاد آئے تو اِن کی یاداشت واپس آئی جو ڈاکٹروں سمیت ہمارے لئے بھی باعث حیرانگی تھی ایسا صرف فلموں ہی میں دیکھا تھا کہ کوئی پرانا گانا گایا جائے یا کوئی پرانی بات یاد دلائی جائے  تو انسان کی یاداشت لوٹ آتی ہے۔ ارسلان کے بائیں پاؤں کااور آنکھ کا آپریشن ہوا، اس کی بائیں پاؤں کی رگ جو چلنے میں مدد دیتی ہے۔ کٹ گئی اور اُس کے ٹھیک ہونے کے بعد چلنے میں نقص آگیا۔میرا بھی ڈیش بورڈ پر لگنے سے سر ہل گیا اور منہ پر نیل پڑگیا۔ نعیم ہسپتال میں مہینہ ایڈمٹ رہے۔ ہسپتال سے نکلنے کے بعد  نعیم کو مہینے کی چھٹی ملی۔
ایک دن یہ تلک چاڑی میں اپنے دوست عباس  سے ملنے اُس کی بیکری کیک لینڈ پر گئے۔ وہاں ایک پیانو پڑا تھا۔ عروضہ پانچ سال پانچ ماہ کی تھی اُس نے پیانو لینے کی ضد کر دی۔ عباس بھائی نے پیانو اُٹھا کر اُسے دے دیا۔نعیم نے کافی منع کیا لیکن وہ نہ مانی۔ خیر وہ پیانو لے کر گھر لے آئی جب تک اِس کے سیلوں کی جان نہ ختم ہوئی ہاری جان نہ چھوٹی۔ عروضہ نے بے ہنگم سر بجا کر اودم مچایا ہوا تھا اور باقی بچے بھی اُس کے ساتھ شامل ہو گئے۔  
فوجی یونٹوں میں ہر ہفتے کوئی نہ کوئی ہلہ گلہ رہتا ہے اگر یہ نہ ہو تو، زندگی بہت بوجھل ہو کر گذرتی ہے، کھیلوں کے مقابلے، مینا بازار، سینما، میسوں میں تمبولا، میوزک شو وغیرہ۔ چنانچہ حیدر آبا میں بھی ہر مہینے کے پہلے اور تیسرے ویک اینڈ پر میس میں میوزک شو یا تمبولا ہوتا تھا۔ ہم سب گئے وہاں نعیم کی یونٹ کے ایک آفیسرمیجر اعجاز جو نئے آئے تھے، انہوں نے آرمی سکول آف میوزک سے کورس بھی کیا تھا۔انہوں نے بھی پروگرام پیش کیا۔عروضہ کو اللہ تعالیٰ نے بہت اچھی آواز دی ہے، وہ قرء ت، نعتیں، ملی نغمے  اور اقبالیات نغمگی میں پڑھتی ہے، اُس وقت چو نکہ چھوٹی تھی تو، سوہنی دھرتی اور تیرا کونہ کونہ گھوموں اِس کو یاد کرایا تھا۔ جو اِس نے سٹیج پر پڑھا۔
دوسرے دن یونٹ میں میجر اعجاز نے نعیم کو کہا کہ، سر عروضہ کو، میوزک کے ساتھ پڑھنا سکھائیں۔ نعیم یونٹ میں سیکنڈ اِن کمانڈ تھے اُنہوں نے میجر اعجاز کو کہا کہ تم اُسے پیانو بجانا سکھا دو۔ میجر اعجاز نے وہی پرانی راگنی چھیڑی کی سر یہ بہت مشکل کام ہے۔ اِس کے سیکھنے میں عمر گذر جاتی ہے۔ انسان یہ آسانی سے نہی سیکھ سکتا۔ میں نے خود  یہ پندرہ سال میں سیکھا ہے،
نعیم نے کہا  مذاقاً کہا،‘’اعجاز اگر تم نالائق ہو تو سب کو اپنا جیسا مت سمجھو، میں اِسے پندرہ دن میں سکھا سکتا ہوں“۔
میجر اعجاز نے چیلنج کر دیا۔  نعیم، شام کو ہم سب کو ساتھ بٹھا کر کار میں حیدرآباد کی تما م دکانیں کھنگال ماریں۔ مگر انہیں میوزک کے سروں  بارے کوئی کتاب نہیں ملی۔ یہ واپسی پر لطیف آباد نمبر دو میں، وڈیو کی دکان پر رکے،ہنگاموں میں نعیم کی ڈیوٹی لطیف آبادمیں لگی تھی نعیم نے اتفاقا ً اِس کی دکان لٹنے سے بچائی تھی، تب سے اُ سے دوستی ہوئی وہ نعیم سے صرف یہ رعایت کرتا تھا کہ دو تین فلمیں دے دیتا  نعیم پیسے دے دیتے وہ کینٹ کی طرف آتا تو ہمارے ہاں آکر اپنی کیسٹ لے جاتا  نعیم نے کچھ کیسٹ لیں اور باتوں باتوں میں وڈیو والے سے پوچھا،
”کسی کے پاس سے میوزک سکھانے والی کتاب مل سکے گی“۔
اس نے پوچھا " کیوں سر جی خیریت تو ہے ؟ "
نعیم نے ماجرا بتایا۔ تو رکنے کا کہہ کر موٹر سائیکل پر غائب ہو گیا۔ پندرہ منٹ بعد واپس آیا، اور ایک کتاب نعیم کو دی  اور بولا،
”سر میں نے یہ کتاب کراچی سے خریدی تھی۔ میں تو اِس سے میوزک نہ سیکھ سکا آپ کو شش کر لیں، یہ میری طرف سے تحفہ ہے مرے پاس اور بھی کتابیں پڑی ہیں میں وہ بھی ڈھونڈ کر آپ کو دے دوں گا“
۔ نعیم  نے شکریہ کے ساتھ وہ کتاب لے لی۔ گھر آکر، پیانو نکالا، وہ تو بچوں کا پیانو تھا۔ نعیم وہ پیانو اور بچوں کو لے کر عباس کے پاس جا پہنچے۔عباس بس دکان بند کرنے والا تھا۔  نعیم نے کہا کہ اُس سے اچھا پیانو دکھاؤ۔اُس نے کہا کہ میرے پاس تو نہیں میرے بھائی کی دکان پر ہے جو آپ کے گھر کے پاس ہے وہیں چلتے ہیں اور اُس سے لیتے ہیں۔ عباس اپنی سکوٹر پر اور نعیم کار پر بھائی کی دکان پر پہنچے وہاں سے، بچوں کا ہی بڑا پیانو لیا، وہاں اتفاق سے ایک اور صاحب آئے تھے انہوں نے پیانو پر دو تین سر بجا کر اُسے، پاس کیا نعیم وہ لے کر بچوں کے ساتھ گھر آگئے۔
چاروں بچے اورنعیم پیانو پر کتاب کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق سیکھنے کی کوشش کریں، مگر وہ سرہی نہ پیدا ہوں۔ تین دن گذر گئے۔اچانک نعیم کو ترکیب سوجھی۔ نعیم نے، پیانو کی ”کی“ پر تین قسم کے رنگین سٹکرز  سے ساتوں ” سُر۔ سا۔ رے۔ گا۔ ما۔ پا۔ دھا۔ اور نی“لکھ دیئے اور کتاب میں دیئے ہوئے ”جیوے جیوے پاکستان“  کا مکمل نغمہ اپنی کاپی میں لکھا ور پیانو پر لکھے ہوئے سروں کے مطابق اسے آہستہ آہستہ  بجانے کو کوشش کی میں کچن میں کھاناپکار رہی تھی میرے کانوں میں جیوے جیوے پاکستان کے سر سنائی دئیے میں سمجھی ٹیپ پر چل رہے ہیں اور شائد ٹیپ کے سیل کمزور ہیں اس لئے تھوڑا سا بے ربط ہو جاتے ہیں۔
 اتنے میں نعیم نے زور سے آوازلگائی،”گل۔ے۔ے“
میں کمرے میں آئی تو کہنے لگے سنو اور پھر آہستہ آہستہ،”جیوے، جیوے، جیوے پاکستان، پاکستان، پاکستان، جیوے پاکستان“ ردھم میں سنا دیا۔ شام کو چاروں بچوں نے اِس لائن پر مہارت حاصل کر لی اور دوسرے دن رات تک پانچوں، ماہر ہو گئے، اُس کے بعد ”سوہنی دھرتی  اور یہ وطن ہمارا ہے ہم ہیں پاسباں اس کے“ پر پندرہ دنوں میں، چاروں بچوں نے مہارت حاصل کر لی۔
آفیسر میس میں ہفتے کی شام کو تمبولا ہوا، نعیم بھی تمبولا کھلاتے تھے بلکہ تما م جونئیر آفیسروں کو بھی موقع دیتے تا کہ اُن میں خوداعتمادی پیدا ہو ا اور بچوں کو بھی موقع دیتے۔ لوگ مختلف جوک بھی سناتے۔ لطیفے بھی چلتے۔غرض اچھا خاصا ہلا گلا رہتا۔دوہاؤس کے بعد نعیم نے اعلان کیا کہ میں آپ سب کو حیران کرنا کرنا چاہتا ہو ں اور میجر اعجاز سے کی ہوئی گفتگو دھرائی اور میجر اعجاز سے تصدیق کرائی۔ میجر اعجاز اپنی بات پر قائم رہے کہ میوزک سیکھنا، پھر وڈیو والے ریحان نے اپنی دکان میں ہونے والی گفتگو کا ذکر کیا اور بتا یا کہ اُس نے تین کتابیں میجر نعیم کو تحفے میں اِ س لیے دیں کیوں کہ وہ خود میوزک سیکھنے میں ناکام ہو گیا۔اور وہ سمجھتا ہے کہ استاد کے بغیر کوئی بھی کام سیکھنا مشکل ہے۔
نعیم نے عروضہ کو بلایا۔  عروضہ نے پیانو پر سوہنی دھرتی سنایا۔سامعین نے بے تحاشا تالیاں بجائیں۔
پھر ارمغان کو بلایا وہ تھوڑا سا گڑبڑا گیا۔
ارسلان اور سائرہ نے بہت اچھے لگاتار ردھم کے ساتھ بجایا۔ آخر میں نعیم نے بتایا کہ دو سال پیانو بجانے والے کے ساتھ PMAمیں ایک کمرے میں رہنے کے باوجود مجھے نہیں معلوم تھا سُر کیا ہوتے ہیں اور اُنہیں کیسے ترتیب میں رکھا جاتا ہے۔ لیکن میجر اعجاز کے چیلنج نے مجھے یہ بھی سکھا دیا۔ میجر اعجاز آپ شرط ہار چکے ہیں۔ یہ کہہ کر نعیم نے سوہنی دھرتی پیانو پر بجایا۔ سب نے تالیاں بجائیں۔ نعیم اور بچوں کو گفٹ دئے۔ اُس کے بعد نعیم نے تو کبھی پیانو نہیں بجایا البتہ بچوں نے خود کتاب سے مختلف نغموں اور گانوں کے سر سیکھے۔ اُ ن سب میں مہارت ارسلان نے حاصل کی۔ لیکن کیوں کہ یہ اُن کا شوق نہیں تھا لہذا  یہ شوق نہیں بنا،
اپریل میں،نے نعیم کے ایک پرانے بکس میں پڑی ہوئے وردیوں کو دھوپ لگانے کے لئے کھولا تو میری نواسی جو دو سال کی ہے نعیم کے میڈلز کی کھڑنگ کھڑنگ سے بہت خوش ہوئی وہ انہیں روپے سمجھ رہی تھی، نعیم کی میس کٹ کی جیکٹ اور ٹراوزر۔ جس کو پہنانے کے لئے نعیم کو آدھا چھیلنا پڑے۔اُسی بکس میں سے اٹک کے بعدشفٹنگ کے وقت ڈالا ہوا، پیانو بھی برآمد ہوا۔ جس کو اب ہماری نواسی جب ہمارے گھر آتی ہے تو شوق سے اُس کی ”کی“ پر انگلیاں مار کر  ”ٹاں ٹاں“کی آواز نکلنے پر خوش ہوتی ہے۔مجھے عروضہ کا بچپن یاد آجاتا ہے۔

دوسرے دن سب مل کر نتھیا گلی گئے وہاں خوب گھومے پھرے۔ باقی بسب باڑیاں کے لئے واپس ہوئے اور ہم۔ ایبٹ آباد  کے لئے روانہ ہوگئے رات آٹھ بجے ہم بلوچ میس کے گیسٹ روم پہنچے۔



٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ہونہار برِوا -7 - زیرِطباعت
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں