Pages

بدھ، 19 مارچ، 2014

ماں کی نصیحت ، بیٹی کی نام

 میری پیاری بیٹی ،میری آنکھو ں کی ٹھنڈک ،شوہر کے گھر جا کر قناعت والی زندگی گزارنے کا اہتمام کرنا۔ جو دال روٹی ملے اس پر راضی رہنا ، جو روکھی سو کھی شو ہر کی خوشی کے ساتھ مل جائے وہ اس مر غ پلاؤ سے بہتر ہے جو تمہارے ۔اصرار کرنے پر اس نے نا راضگی سے دیا ہو ۔
میری پیاری بیٹی ، اس بات کا خیال رکھنا کہ اپنے شوہر کی با ت کو ہمیشہ توجہ سے سننا اور اسکو اہمیت دینا اور ہر حال میں ان کی بات پر عمل کرنے کی کو شش کرنا اس طر ح تم ان کے دل میں جگہ بنا لو گی کیو نکہ آدمی نہیں، بلکہ آدمی کا کام پیارا ہو تا ہے ۔

میری پیاری بیٹی ، اپنی زینت و جمال کا ایسا خیال رکھنا کہ جب وہ تجھے نگاہ بھر کے دیکھے تو اپنے انتخاب پر خو ش ہو اور سادگی کے ساتھ جتنی بھی استطاعت ہو خوشبو کا اہتمام ضرور کرنا اور یاد رکھنا کہ تیرے جسم ولباس کی کوئی بو یا کوئی بری ہیت اسے نفر ت و کرا ہت نہ دلائے ۔

میری پیاری بیٹی ، اپنے شو ہر کی نگاہ میں بھلی معلوم ہو نے کے لیے اپنی آنکھوں کو سرمے اور کاجل سے حسن دینا کیونکہ پر کشش آنکھیں پورے وجود کو دیکھنے والے کی نگا ہوں میں جچا دیتی ہیں ۔ غسل اور وضو کا اہتمام کرنا کہ یہ سب سے اچھی خوشبو ہے اور لطافت کا بہترین ذریعہ ہے ۔

میری پیاری بیٹی ، ان کا کھانا وقت سے پہلے ہی اہتمام سے تیار رکھنا کیونکہ دیر تک برداشت کی جانی والی بھوک بھڑکتے ہوئے شعلے کی مانند ہو جاتی ہے اور ان کے آرام کرنے اور نیند پوری کرنے کے اوقات میں سکون کا ماحول بنانا کیونکہ نیند ادھوری رہ جائے تو طبیعت میں غصہ اور چڑچڑاپن پیدا ہو جا تا ہے ۔
میری پیاری بیٹی ، ان کے گھر اور انکے مال کی نگرانی یعنی ان کے بغیر اجازت کوئی گھر میں نہ آئے اور ان کا مال لغویات ، نمائش و فیشن میں بر باد نہ کرنا کیونکہ مال کی بہتر نگہداشت حسن انتظام سے ہوتی ہے اور اہل عیال کی بہتر حفاظت حسن تدبر سے ۔میری پیاری بیٹی ،  یاد رکھنا ، تمھارے شوہر کی اجازت کے بٖغیر ، تمھارے شوہرکا مال ، تمھارے شوہر کی بغیر اجازت ، بہن بھائیوں کو دئیے گئے تحفے ، ہمارے لئے ناجائز ہیں ۔ شوہر کی کمائی سے یہاں تک کہ تمھیں دئیے ہوئے اس کے مال سے بھی اس کی اجازت اور تحفہ اسے دکھائے بغیر کسی کو نہ دینا ۔
میری پیاری بیٹی ،کرے گی اور تم اگر اس کا راز دوسروں سے چھپا کر نہ رکھ سکیں تو اسکا اعتماد تم پر سے ہٹ جا ئیگا اور پھر تم بھی اس کے دو رخے پن سے محفوظ نہیں رہ سکو گی ۔
میری پیاری بیٹی ، جب وہ کسی با ت پر غمگین ہو ، تو اپنی کسی خوشی کا اظہار ان کے سامنے نہ کرنا یعنی ان کے غم میں برابر کی شریک رہنا۔ شوہر کی کسی خوشی کے وقت غم کے اثرات چہرے پر نہ لا نا اورنہ ہی شوہر سے ان کے کسی رویے کی شکایت کر نا ۔ ان کی خوشی میں خوش رہنا۔ورنہ تم ان کے قلب کے مکدر کرنے والی شمار ہو گی۔

میری پیاری بیٹی ، اگر تم ان کی نگا ہوں میں قابل تکریم بننا چاہتی ہو تو اس کی عزت اور احترام کا خوب خیال رکھنا اور اسکی مرضی کے مطابق چلنا تو اس کو بھی ہمیشہ ہمیشہ اپنی زندگی کے ہر ہر مرحلے میں اپنا بہترین رفیق پاؤ  گی۔
میری پیاری بیٹی ، میری اس نصیحت کو پلو سے باندھ لو اور اس پر گرہ لگا لو کہ جب تک تم ان کی خوشی اور مرضی کی خاطر کئی بار اپنا دل نہیں مارو گی اور اس کی بات اوپر رکھنے کے لیے خواہ تمہیں پسند ہو یا ناپسند، زندگی کے کئی مرحلوں میں اپنے دل میں اٹھنے والی خواہشو ں کو دفن نہیں کرو گی اس وقت تک تمہاری زندگی میں بھی خوشیو ں کے پھول نہیں کھلیں گے ۔

اے میری پیا ری اور لا ڈلی بیٹی ان نصیحتو ں کے ساتھ میں تمہیں اللہ کے حوالہ کرتی ہوں اللہ تعالیٰ زندگی کے تمام مرحلوں میں تمہارے لیے خیر مقدر فرمائے اور ہر برائی سے تم کو بچائے۔ 

پیر، 3 مارچ، 2014

ہونہار بِروا - 4


          منگلا سے ہم مری روانہ ہوئے، جہاں ہم ہفتہ  کلڈنہ  ٹہرے نعیم کے  یونٹ آفیسر وہاں
 انسٹرکٹر تھے۔ کمروں  کی ایک لمبی سی لائن کے آخر میں ایک کمرہ ہمیں ملا ہو تھا جس کے بعد چیڑ کے درخت تھے جن پر بندر اپنی فیملی کے ساتھ آجاتے اور انسانوں کو دیکھتے  رہتے کہ کوئی کھانے کی چیز کب پھینکتے ہیں۔ان میں ایک بندریا اپنے پندرہ دن یا مہینے کے لاغر بچے کو کمر پر بٹھائے یا سینے سے چمٹائے کھانے کی چیزیں لینے آتی۔ تیسری صبح بھی بندر اپنی فیملی کے ساتھ آئے۔ بچے ناشتہ کرنے کمرے میں آگئے۔ عروضہ باہر کرسی پر بیٹھ گئی اور بندروں  کی درختوں پر اچھل کود دیکھنے کے لئے رک گئی میں نے اس کا ناشتہ باہر دے دیا وہ  وقفے وقفے کے بعد پاپ کارن پھینک دیتی جو بندر اچک کر لے جاتے۔ ہم کمرے میں ناشتہ کر رہے تھے۔

عروضہ کمرے میں آئی اور اپنا پراٹھا لے کر باہر چلی گئی۔پھر آئی اور پراٹھا مانگا میں حیران تھی کہ اس نے بغیر منت سماجت کئے ناشتہ کیسے کر لیا۔ میں نے پراٹھا دے دیا۔ نعیم نے سائرہ کو کہا دیکھو کہیں یہ بندروں کو ناشتہ تو نہیں کرا رہی۔ سائرہ باہر گئی اور بتایا کہ ایک بندریا اپنے بچے کے ساتھ کرسی پر بیٹھی ہے اور عروضہ برامدے میں بیٹھ کر بندریا کو پراٹھے کے ٹکڑے پھینک رہی ہے۔ اور وہ اچک اچک کر خود بھی کھا ر ہی ہے اور منہ سے چبا کر بچے کو بھی دے رہی ہے۔باقی بندر درختوں پر بیٹھے خو خو کر رہے ہیں۔ ہم لوگوں کے باہر نکلنے سے بندریا اپنے بچے کو پیٹھ پر بٹھائے چھلانگ مار کر درخت پر چڑھ گئی۔باقی بندر دور ہٹ گئے۔ اب روزانہ صبح، عروضہ کا یہی مشغلہ ہو گیا۔ وہ اپنا اور بندریا اور اُس کے بچے کا پراٹھا لے کر باہر جا بیٹھتی اور بندریا کو ناشتہ کراتی، بندریا اُس سے ہل گئی اور درخت سے اتر کر اس کے قریب آکر بیٹھ جاتی لیکن چوکس انداز میں اگر عروضہ کوئی چیز لانے کے لئے اُٹھتی تو وہ چھلانگ مار کر درخت پر چڑھ جاتی۔
            اس سارے  عرصے میں سانپ اور کچھوا بھی ہمارے ساتھ تھا۔ بلکہ مری  سے چارگھونگھے Snailبھی پکڑ لئے تھے ۔عروضہ کی بڑی خواہش تھی کہ بندریا بچے کو چھوڑے تو وہ بچہ پکڑ لے اور پھر اپنے ساتھ اٹک لے جائے۔ تب نعیم نے اسے ڈرایا، کہ دیکھو وہ جو بچے کا باپ ہے تمھیں غور سے دیکھ رہا ہے اور بندریا کو  کہہ رہا ہے کہ یہ لڑکی کتنی اچھی ہے۔ ہمیں پراٹھا دے رہی ہے  او رتمھیں پراٹھا بنانا نہیں آتا۔ کیوں نہ ہم اس لڑکی کو لے جائیں یہ ہمیں پراٹھے بنا کر دے گی۔ہم اس کا درخت پر خوبصورت سا پنجرہ بنا دیں گے۔ عروضہ یہ سن کر خوف زدہ ہوگئی کہ میں اپنے ماما اور پپا کے بغیر کیسے رہ سکتی ہوں۔ تب نعیم نے سمجھایا کہ وہ دیکھو چھوٹے بچے کا بھائی ہے وہ بہن ہے وہ خالہ چچا اور دوسرے  رشتہ دار ہیں سب ایک ساتھ رہتے ہیں اگر ان سے بچہ چھین لیا جائے تو یہ پاگل ہوجائیں گے اور انسانوں کو دشمن سمجھ کر کاٹیں گے۔ عروضہ کے بات سمجھ آگئی

لیکن ایک اور پریشانی پید ہو گئی۔ اس نے نعیم سے پوچھا کہ کیا سارے، پرندوں، جانوروں اور کیڑے مکوڑوں کے ماں، باپ اور بہن بھائی ہوتے ہیں؟ نعیم نے بتایا کہ ہاں سب کے ہوتے ہیں۔ تو پھر جو سانپ اور کچھوا ہم لے کر جارہے ہیں، پھر ان کے بھی ماں، باپ اور بہن بھائی ہوں گے نعیم نے کہا ہاں، Snail
 کی تو پوری فیملی ہمارے ساتھ تھی لہذا اس کی عروضہ کو فکر نہ ہوئی لیکن سانپ اور کچھوے کے لئے عروضہ پیچھے پڑ گئی۔کہ ان دونوں کو واپس اسی جگہ چھوڑکر آئیں۔کچھوے کے بارے میں وہ مان گئی، کیوں کہ کوئٹہ میں ہمارے پاس جو کچھوا تھا وہ اکیلا تھا لیکن اُس نے بتایا کہ گوجرانوالہ میس میں جو ویٹر چاچا تھا اُس نے بتایا تھا کہ سانپ کی مادہ ہوتی ہے وہ  اکیلی رہ گئی ہو گی اور اب آپ لوگ جہاں بھی جائیں آپ کے پیچھے آجائے گی۔  نعیم نے کہا کوئی بات نہیں، مادہ گجرانوالہ سے چل پڑی ہوگی۔سانپ ایک دن میں تین میل کا فاصلہ طے کرتا ہے۔ ابھی تو وزیر آباد بھی نہیں پہنچی ہوگی اٹک پہنچنے میں مہینہ لگے گا۔ ہم اس کو بھی اپنے پاس رکھ لیں گے۔ تاکہ بے چاروں کو کھانے کی پریشانی نہ رہے۔

مری خوبصورت اور قدرتی نظاروں سے بھر پور ہے۔ فوج کی ایک خاص بات یہ ہے کہ جہاں ہوتی ہے بنجر زمین کو نخلستان بنا دیتی ہے۔ صفائی کے لحاظ سے کنٹونمنٹ ایریا کی مثال دی جا سکتی ہے، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ شادی کے بعد، میں نعیم کے ساتھ پہلی بچی کی پیدائش سے پہلے خوب گھومی۔ لاہور سے پارا چنار کے اس وقت کے کینٹ اور آج، ڈویلپمنٹ کے لحاظ سے زمین
آسمان کا فرق ہے۔ کینٹ کی آبادی بڑھنے کے باوجود کینٹ کی صفائی میں کوئی فرق نہیں آیا۔

      مری میں سب سے خوبصورت بھوربن کا کھلا علاقہ ہے۔ نعیم اور دوسرے آفیسر نے اتوار کو گالف کھیلنے کا پروگرام اور ہم تمام فیملیز نے پکنک کا پروگرام بنایا، یہ تو آٹھ بجے اپنے اپنے بیگ کے ساتھ نکل گئے، ارمغان اور سائرہ بھی ساتھ گئے۔ میں عروضہ اور ارسلان، خواتین
اورپکنک کے سامان ساتھ دس بجے بھوربن پہنچے۔عروضہ نے سانپ کا بکس بھی ساتھ لے لیا تھا۔

گالف کلب کے ایک حصے میں، بیٹھنے کا انتظام کیا۔ بچے اپنے اپنے کھیل کھیلنے لگے، ہم خواتین کا
 ایک ہی موضوع ہوتا ہے اور وہ صرف شاپنگ اور شاپنگ ہی ہے کہ کون سی اچھی اور سستی مارکیٹ ہے جہاں دھوکہ نہیں دیا جاتا۔ ہم بات کر رہے تھے کہ سائرہ اور ارمغان، ایک راونڈ گالف کھیل کر واپس آئے۔ سائرہ نے سانپ کا بکس کھولا اور چینخی۔ ماما اس میں سانپ نہیں ہے۔ تمام خواتین اور بچے بشمول میں چینختے ہوئے دور بھاگے۔ ہمیں بھاگتا دیکھ کر سائرہ نے قہقہ لگایا۔ ہم سمجھ گئیں کہ اس نے مذاق کیا ہے۔ خواتین اور بچے نزدیک آئے تو سائرہ نے سانپ کو اٹھا کر نکال لیا تمام خواتین اور بچے، اسے نصیحتیں کریں کہ اسے واپس ڈال دو ورنہ یہ کاٹ لے گا۔

بہرحال بعد میں تمام بہادر خواتین اور بچوں نے سانپ کو ہاتھ میں پکڑ کر دیکھا اور تصویریں بنائیں۔ ساڑھے گیارہ بجے چاروں مرد حضرات گالف کھیل کر واپس آئے، بچوں نے اپنے اپنے ابو کو سانپ کا بتا یا وہ بھی حیران ہوئے کہ اُن کے بچوں نے سانپ پکڑنے کی بہادری کیسے  دکھائی۔ سانپ سے کھیلنا پکنک کا سب سے اچھا ایونٹ رہا،  میں سب کو بطور کنسلٹنٹ  ہدایات دیتی،کہ سانپ کو کس طرح پکڑنا ہے کہ وہ ہاتھ کے دباؤ سے خوفزدہ نہ ہوجائے۔ تمام بھابیاں بھی مجھ سے مرعوب تھیں۔ کہ سائرہ نے بھانڈا پھوڑا، ہو ایوں کہ میں آرام سے بیٹھی گپ لگا رہی تھی کہ اُس نے سانپ کی دم میری آنکھوں کے سامنے میرے پیچھے کھڑے ہو کر لہرائی۔
میری چینخ بلا مبالغہ مری مال روڈ تک سنائی دی ہو گی۔ تب راز کھلا کہ سب سے زیادہ سانپ سے میں ڈرتی ہوں، ایک بھابی نے پوچھا۔ اس کے تو دانت نکال دیئے ہیں۔اب تو تین مہینے کے بعد آئیں گئے۔ پھر آپ کیوں ڈر رہی ہیں۔میں نے کہا واہ بھابی آپ تین مہینے کا انتظار کر رہی ہیں اور اگر سانپ کے دانت ابھی اُگ آئے تو کیا ہوگا؟ 



٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ہونہار برِوا -7 - زیرِطباعت
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

جمعرات، 20 فروری، 2014

فوجی کی بیوی - 4




                سسرال پہنچی، تو باراتی ہم سے پہلے پہنچ گئے تھے استقبال ہوا۔محلہ کی ساری عورتیں ان کے گھر جمع تھیں ِ بچے بھی نعیم بھائی و انکل کی دلہن دیکھنے امنڈے  پڑ رہے تھے۔  کوئی منہ دکھائی میں ٹافیاں ڈال رہا ہے تو کوئی بسکٹ دے رہا ہے، ساڑھے دس بجے ان کو ڈھونڈا جا رہا تھا مگر یہ غائب تھے۔ چھوٹے بھائیوں کو دوستوں کے پاس دوڑایا یہ ندارد۔ رات کو گیارہ بجے مہمان جانے شروع ہوئے بستر بچھانے کے لئے، سیڑھیوں کے نیچے والے حصے کا دروازہ کھولا تو معلوم ہوا کہ دولہا میاں تین فٹ ضرب چار فٹ کے بستر رکھنے والےمچان میں رضائیوں کے اوپر سوٹ سمیت سو رہے تھے۔  بھائی مل گئے کا نعرہ ان کی چھوٹی بہن نے لگایا یہ آنکھیں ملتے ہوئے اُٹھے منھ دھویا، کمرے میں داخل کیسے ہوں دروازے پر لڑکیوں نے قبضہ جمایا ہوا تھا،پیسے دے کر جان چھڑائی، کمرے میں داخل ہوئے مسہری پر ان کا دس سالہ بھائی وسیم اور میرا چھ سالہ بھتیجا گڈو سوئے ہوئے تھے۔  ان دونوں کو اٹھایا تو دونوں نے کمرے سے نکلنے سے انکار کر دیا۔ گڈو میکے میں میرے ساتھ سوتا تھا، بہر حال دونوں کو دوبارہ سونے دیا آدھے گھنٹے بعد ان کے چھوٹے بھائی چپکے سے اٹھا کر دونوں کو دوسرے کمروں میں لے گئے۔ 

                دوسرے دن جمعرات تھی ولیمہ ہوا گھر کے سامنے سڑک پر شامیانے لگائے گئے۔ دوپہر ایک بجے کھانا شروع ہوا اور دو بجے تک ختم ہو گیا، شامیانے سمیٹ لئے گئے۔ اس کے بعد آنے والے مہمانوں کو بیٹھک میں کھانا کھلایا ِ۔ تین بجے چھوٹے بھائی جان آکر مجھے لے گئے۔  اگلے دن جمعہ رات کے کھانے کے بعد میں ان کے ساتھ دوبارہ  اپنے سسرال آگئی۔ ان کی چھوٹی بہن سعیدہ نے مجھ سے پوچھا کہ بھابی آپ بھائی کو کیسے بلائیں گی؟ اب مجھے سمجھ نہ آئے، ہماری بھابیاں بھائیوں کو، اجی، سنیئے، گڈو کے ابا وغیرہ کہہ کر بلاتی تھیں میں کیا کہہ کر بلاؤں؟ کیوں کہ ان دنوں یہی چلتا تھا۔  میں نے کہا اپنے بھائی سے پوچھو انہیں کیا اچھا لگے گا؟ ان سے پوچھا انہوں نے کہا، ”نعیم“  مجھے بڑا عجیب لگا کہ، مجھ سے بڑے بھی ہیں اور شوہر بھی اور نام سے بلاؤں، چنانچہ کافی عرصہ سنیئے ہی سے کام چلایا۔

                 انہوں نے گیارہ تاریخ کو واپس اپنی یونٹ چلا جانا تھا۔لہذا دس تاریخ کورسم کے مطابق میں نے شام کو کھیر پکائی، محلے اورعزیزوں دوستوں کے گھر تقسیم کی گئی۔ مغرب کے بعد انہوں نے مجھے، اپنے چھوٹے  بھائی کی بیوی، بانو(ان کی شادی سال پہلے ہو گئی تھی)  اور دونوں بہنوں کو بٹھا لیا اور جوائینٹ فیملی سسٹم کا سب سے بڑی وجہ نزع کو انہوں نے ایک ہفتہ وار پروگرام کاغذ پر بنا کر حل کر لیا اور وہ  چاروں کی گھر کے کام کاج میں ڈیوٹیوں کی تقسیم تھی ُ کہ گھر کا کھانا کس کس نے کب کب پکانا ھے۔ صبح اور دوپہر کے برتن تو کام والی دھوتی تھی لیکن رات کے کھانے کے بعد برتن کون کون دھوئے گا وغیرہ وغیرہ۔ یہ ٹائم ٹیبل بنا کر کچن میں ٹانگ دیا۔ اور ہاں میرا میکہ تو دو گلی چھوڑ کر تھا اور  بانو کانواب شاہ، چنانچہ اس بات کا بھی خیال رکھا، یہ اور بات کہ ہم دونو ں دیورانی اور جٹھانی نے بقائے باہمی کے اصولوں پر اپنے اپنے کام بعد میں ایڈجسٹ کر لئے، چونکہ کھانا میں اچھا بناتی تھی لہذا کھانے کی تما م ذمہ داری  مجھ پر آگئی۔  بانو کو چونکہ اسی مہینے خوشخبری ملنے والی تھی لہذا، اس کے آرام کو بھی مد نظر رکھنا پڑا۔

 اگلے دن یہ روانہ ہو ئے تومیرے آنسو نکل آئے ان کے سب گھر والوں نے میرا مذاق اڑانا شروع کر دیا،ہمارے بھائی چھٹی کے بعد واپس جاتے تو میں نے بھابیوں کو روتا ہی دیکھا اور یہ لوگ رونے سے منع کر رہے۔ ان کی امی نے کہا بہو جانے والے کو ہنسی خوشی رخصت کرتے ہیں۔تاکہ اسے پردیس میں ہنستے چہرے یاد رہیں۔ یہ بات دل کو لگی میں نے آنسو پونچھ ڈالے۔ 

                ان کے جانے کے دوسرے دن میں میکے چلی گئی۔ وہاں تین دن رہ کر سسرال واپس چھوٹی بہن کے ساتھ آئی تودس بجے  ان کا خط آیا ہوا تھا۔ سعیدہ نے خط مٹھائی کھائے بغیر دینے سے انکار کر دیا۔ بہرحال گلاب جامن منگوائے تب ان کا خط ملا۔ اب خط کیسے پڑھوں؟یہ سب لوگ اس امید پر کہ میں خط کھولوں تو یہ بھی سنیں اور میری خط کھولنے کی ہمت نہ پڑے۔یہ میرے نام کسی لڑکے کا پہلا خط تھا۔ میں نے خط الماری میں رکھ کر تالا لگادیا۔  اب یہ تینوں میرے پیچھے کہ بھائی کا خط سناؤ، اب میں پریشان،ان کی امی نے آکر سب کو دوڑا دیا۔ لیکن دوپہر کو پھر یہ سب میرے کمرے میں آگھسیں، بھائی کا خط پڑھا  میں نے کہا نہیں۔نہیں پڑھ لیا ہمیں بھی سناؤ ، سعیدہ مجھ سے تین مہینے چھوٹی تھی۔ وہ ناراض ہو گئی میں نے منایا اور کہا پہلے میں پڑھوں گی اور خود سناؤں گی۔ پڑھنے کو نہیں دوں گی۔ تینوں راضی ہوگئیں۔ میں نے دھڑکتے دل سے الماری کھولی۔ تمام دعائیں جو یاد تھیں پڑھ لیں کہ انہوں نے کوئی ایسی بات نہ لکھی ہو کہ مجھے شرمندگی ہو۔ ان کو دور بٹھا کر خط کھولا۔ پڑھا  ایک بے ضرر سا خط تھا اللہ کا شکر ادا کیا اور خط سعیدہ کو دے دیا، اس نے پڑھا اور بانو کو دے دیا،  بانو نے پڑھ کر حمیدہ کو دیا اور حمیدہ  اور فردوس دونوں نے پڑھا۔ بانو نے شرارت کی بھابی، لفافے میں دیکھیں کوئی اور رقعہ تو نہیں، لفافے کو اچھی طرح جھاڑا کچھ نہیں۔ شام کو چھوٹے بھائی آکر چھوٹی بہن فردوس کو لے گئے۔  گھر کے کام کاج سے فارغ ہو کر ہم سب چھت پر آبیٹھے او ر گپیں شروع ہوگئی ان کی بڑی بہن آپا کوئیٹہ سے شادی میں شرکت کے لئے اپنی  دو چھوٹی بیٹیوں کے ساتھ آئی تھیں۔ انہوں نے اپنے بچپن کے قصے سنانے شروع کر دئے جو زیادہ  تر آپا اور ان کے تھے سب ہنسیں اور مجھے ہنسی بھی آئے اور غصہ بھی، کہ یہ سب میرے شوہر کا مذاق اڑا رہے ہیں ِ ان کی امی نے غالباً میر چہرہ پڑھ لیا بولیں، ”گل، میرا نمو بہت سیدھا تھا اور یہ نجمی اس کو بہت تنگ کرتی اور پھر اپنے ابا مار کھاتی“۔ آپا شادی کے بعد دو ہفتے رہیں اور دونوں  ہفتے وہ اپنی بچپن کی شرارتوں کے قصے ایسے مزے سے سناتیں کہ ہنستے ہنستے ہم سب کے پیٹ میں بل پڑھ جاتے۔ 

                غالباً یہ  1959کا ذکر ہے۔ ان کے ابو کی پوسٹنگ ایبٹ آباد میں تھی۔یہ  پانچ سال کے تھے،  آپا سات سال کی، امین  چار سال اور سعیدہ ایک سال،یہ ”پکی“ جماعت میں تھے اور آپا دوسری جماعت میں تھیں۔ سکول کا نام "گورنمنٹ برکی پرائمری سکول" تھا۔ جو ان کے گھر سے سو گز کے فاصلے پر تھا۔ آپا بچپن سے بہت ذھین اور پڑھائی میں تیز تھیں۔ تین چار دن بعد، ان کی امی نے مرغی پکائی،غالباً مہمان آئے تھی، مرغی کے پروں کو مکئی کے خالی بھٹے میں لگا کر آپا نے کھلونا بنایا جسے اوپر پھینکیں تو آرام سے گھومتا ہوا نیچے آتا تھا۔ کھیل کھیلتے ہوئے ان کے ذہن میں خیال آیا کہ اگر میں یہ پر باندھ لوں تو کیا میں بھی پری کی طرح اڑ  سکوں گا۔ انہوں نے آپا سے پوچھا آپا نے کہاہاں بالکل اڑ سکتے ہو۔ آپا نے ان کے دونوں کندھوں پر، مرغی کے چھ چھ پرلگا دئے۔ اب کہاں سے اُڑا جائے؟  گھر کے نزیک بہنے والے پختہ برساتی نالی جو دو فٹ چوڑی  اور  اتنی ہی گہری تھی (جو میں نے بعد میں جون 1999) میں نعیم نے ہمیں دکھائی)  یہ چھلانگ لگا کر اسے پار کر جاتے تھے۔چنانچہ اس کے اوپر سے چھلانگ لگا کر اڑنے کا فیصلہ کیا گیا طے یہ پایا کہ پہلے یہ اڑیں گے اور پھر آپا۔دونوں بہن بھائی نے  نالی کے ایک طرف اینٹوں سے ایک فٹ اونچا  تھڑا بنایا۔ یہ پیچھے سے دوڑتے آئے، تھڑے پر پاؤں رکھا فضا میں بلند ہونے کی کوشش کی اور تھڑے کی ایک اینٹ پھسل جانے سے یہ نالی میں جاگرے اور بے ہوش ہو گئے۔ آپا نے زور زور سے رونا شروع کیا ان کی امی اور پڑوسن گلزار خالہ دوڑتی ہوئی آئیں اور انہیں ہسپتال لے جایا گیا۔گلزار خالہ کو جب معلوم ہوا کہ یہ نجمی کی شرارت تھی تو انہوں ان کی خوب دھنائی کی۔ اس دن کے بعد محلے والے بچے انہیں ”نعیم پری“ کے نام سے چھیڑتے۔  اور ان پر ایک گانا بھی بنا لیا تھا۔
” نعیم پری آنا۔ پر لگا کر اُڑجانا۔ نالے میں گرجانا۔شور نہ مچانا۔ نعیم پری آنا “  

                گلزار خالہ، ان کی زندگی کی ایک اہم شخصیت ہیں، ان کے شوہر کا نام اقبال صاحب تھا اور یہ چواء سیدن شاہ  چکوال میں سخی سیدن شاہ کے شمال میں واقع  محلے کے رہنے والے تھے۔ ان کی شادی کو چھ سال ہو گئے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے اولاد کی نعمت سے نہیں نوازا تھا،  جب نعیم کی پیدائش ہوئی تو یہ دونوں گھرانے لاہور میں تھے۔ نعیم کی پیدائش پر ان کی امی بہت بیمار ہوگئیں، ان کا سسرال میرپورخاص میں تھا۔ دادی آ نہیں سکتیں تھیں چنانچہ گلزار خالہ نے انہیں پالا،  ان کے والد کی پوسٹنگ ایبٹ آباد ہو گئی، ان دو نوں وہ میڈیکل کورمیں نائب صوبیدار تھے یہ لوگ  یہاں آگئے تو یہ گلزار خالہ کی جدائی میں بہت بیمارہوگئے پھر نائب صوبیدار اقبال صاحب کی پوسٹنگ بھی چھ مہینے بعد ایبٹ آباد ہو گئی اور اتفاق سے پڑوس میں گھر مل گیا تو یہ پھر زیادہ تر گلزار خالہ کے ہاں ہی رہتے اور وہ اپنے بیٹے کی طرح اس کا خیال رکھتیں۔ بلکہ یہ انہیں اپنے ساتھ اپنے گاؤں دو مہینے کی چھٹیوں پر بھی لے کر گئیں تھیں۔ جہاں سے نعیم خالص پنجابی لہجہ لے کر آئے تھے اور گلزار خالہ کے ساتھ اپنی توتلی زبان میں پنجابی بولتے تھے۔اب تو جب میں بھی کراچی جاتی ہوں یا کراچی والے رشتہ دار آتے ہیں وہ یہی کہتے ہیں کہ گل بھی پنجابی ہو گئی ہے اور ہمیں ان کے لہجے عجیب لگتے ہیں۔

                دوسرے دن میں ان کو خط لکھنے بیٹھی اب سمجھ نہ آئے کہ کہاں سے شروع کروں اور کیا لکھوں۔پھر خیال آیا کہ ان کے جانے کے بعد واقعات لکھنا شروع کروں۔ خط بھی لکھا جائے گا اور انہیں بھی معلومات رہے گی۔ اب ان کے ابو کہیں جلدی خط لکھ کر دو پوسٹ بھی کرنا ہے کیوں کہ لفافے میں انہوں نے بھی رقعہ ڈالنا تھا اور میر خط ختم ہی نہ ہو، اپنے سکول اور کالج میں تقریریں اور امتحان میں مضامین لکھنے کی جو مہارت تھی وہ  خط میں سموئی نہیں جارہی تھی۔بہرحال تین صفحے پر مشتمل ڈائری نامہ لکھ کر اپنے سسرکے حوالے کیا، انہوں نے میری ساس کو دکھایا۔ خط پوسٹ ہونے کے بعد ساس نے سمجھایا کہ بہو خط میں روزانہ کی کہانی نہیں لکھی جاتی۔ 

                16نومبر کو جمعہ تھا اور اس دن صبح دس بجے سے بارہ بجے تک ان کے ہاں قرآن کا درس ہوتا جو ان کی امی دیتیں تھیں، پچھلے جمعے میں اپنے میکے تھی لہذا اب ساری ذمہ داری مجھ پر سونپی گئی کیونکہ بانو کو چند دنوں میں خوشخبری ملنے والی تھی۔ لہذا وہ بستر پر لیٹ گئی۔ کوئی پچیس ،تیس کے قریب عورتیں اور بچیاں آئیں، درس قرآن کے بعد، مجھ سے نعت کی فرمائش کی گئی۔ میں نے حمد اور دو نعتیں سنائیں۔ سب نے ان کی امی کو مبارکباد دی کہ بہت اچھی بہو ملی ھے۔ میں بھی خوش  اب میری ڈیوٹی بچوں کو ترنم سے نعت سنانے کی لگ گئی۔ 


                22 نومبر کو بانوکے ہاں بیٹی پیدا ہوئی۔ فائزہ صدف نام رکھا، ان کے خاندان میں بیٹوں سے یہ پہلی بچی تھی، خوشی منائی گئی محلے میں جانے والوں کے مٹھائی بھجوائی گئی۔ میں چونکہ اپنے بھتیجے اور بھتیجیوں کو سنبھال چکی تھی لہذا مجھے بھی بچی کو سنبھالنے میں دشواری نہیں ہوئی۔ غالباً دسمبر کا پہلا ہفتہ تھا۔ فردوس آئی اور اس نے خوشخبری سنائی کہ اس اتوار کو نورجہاں فلم لگ رہی ھے ہم سب دو پہر کا شو دیکھنے جا رہے ہیں۔ چھوٹے بھائی نے ایڈوانس بکنگ کروا لی ہے۔بھابی نے کہا ہے کہ آپ بھی آجائیں۔ میں نے انکار کر دیا، میری بہن بہت حیران ہوئی۔ ان کی امی سے اجازت لی انہوں نے کہا، گل کی مرضی۔ہفتے کو میں امی کے گھر گئی سب نے بہت زور لگایا مگر میں نے انکار کردیا۔ میں نے واپس شام تک اپنے سسرال جانا تھا۔ لیکن میں دس بجے واپس آگئی۔ ان کی امی نے کہا کے تم فلم دیکھنے نہیں جارہی۔میں نے کہا نہیں۔ ان کی امی بھی حیران ہوئیں کہ میں نے کیسے انکار کر دیا۔ حالانکہ مہینے میں کم از کم ایک دفعہ ہم سب فلم دیکھنے سینما ضرور جاتے تھے اور یہ بات میری ساس کو معلوم تھی۔ دراصل، نعیم نے مجھے منع کر دیا تھا۔ نعیم غالبا 1978 فروری میں رنگین ٹی وی، پشاور سے خرید کر لائے تھے۔ تاکہ ان کے چھوٹے دونوں بھائی باہر جا کر ٹی وی نہ دیکھیں۔  اس کے لئے انہوں نے بڑی مشکل سے اپنے ابو کو منایا تھا۔ پھر ان کی والدہ اور بہنیں جب ہمارے ہاں میری منگنی کے بعد آتیں تو ڈرامہ لازمی دیکھ کر جاتیں۔ لیکن یہ سینما فلم دیکھنے کبھی نہیں گئیں۔  

                وقت جلدی سے گذرنے لگا اور 1980آگیا، تین جنوری کو یہ ایک مہینے کی چھٹی پر اچانک آگئے۔ حالانکہ چند دن پہلے ان کا خط ملا انہوں نے اس میں ذکر تک نہیں کیا۔ سب اس اچانک سرپرائز پر خوش ہو گئے۔ میں نے پوچھا کہ کیاآپ کو خط لکھنے کا وقت نہیں ملتا جو آپ ایک صفحے کا مشکل سے سادہ خط لکھتے ھیں۔ تب معلوم ہوا کہ جس علاقے میں یہ ہیں وہاں سے خط آرمی پوسٹ آفس کے ذریعے جاتے ہیں اور وہ ہر خط کو نہیں بلکہ کچھ خطوں کو کھول کر سنسر کرتے ہیں۔ لہذا سادہ خط لکھنا ان کی مجبوری ہے۔  میرپورخاص میں دو تین دن رہنے کے بعد  انہوں نے پروگرام بنایا کہ، کراچی جاکر میرے اور ان کے رشتہ داروں سے ملنا ہے۔ گویا یہ ایک قسم کا ہنی مون ٹرپ تھا۔


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

فوجی کی بیوی -6 - زیرِطباعت

ہونہار بِروا - 1

بدھ، 19 فروری، 2014

ہونہار بِروا - 3

    
      غالباً، جون 1999کا ذکر ہے۔ ہمارے سکول میں  چھٹیوں میں کرنے کے لئے بچوں کو مختلف کام ملے۔ جونئیر سیکشن  میں، میں نے ہر بچے کو اپنے اپنے علاقے میں چھٹیوں کے دوران، دستکاریوں، تاریخی عمارتوں، یادگاروں، پرانی تہذیبوں، کاشتکاری، ڈیم، دریا، تفریح گاہوں، جانوروں، پرندوں، حشرات الارض اوردیگر اشیاء کے بارے میں معلومات، تصویریں اور نمونے وغیرہ لانے اور ان کے بارے میں کلاس میں دو منٹ کا معلوماتی لیکچر دینے کا چھٹیوں کے بعد رکھا۔  چونکہ یہ کام بچوں کو پہلی دفعہ ملا تھا لہذا ان کا شوق دیدنی تھا۔ اب چونکہ بہت سے بچے فوٹو گرافی افورڈ نہیں کر سکتے تھے لہذا انہیں پرانی کتابوں سے یا خود ڈرائینگ کر کے تصویر لگانے کی اجازت دے دی۔  عروضہ آٹھویں میں تھی، اسے دس حشرات الارض جمع کرنے کا کام ملا۔
          بچوں کی سکول کی چھٹیوں میں ہر سال کوئٹہ سے کراچی، حیدر آباد، میرپورخاص، نواب شاہ، مورو، سکھر اور واپس کوئٹہ اپنی گاڑی پر تمام رشتہ داروں سے ملتے، مہینے کی چھٹیاں، جنوری میں گذار کر واپس کوئٹہ آجاتے، میرپورخاص میرا اور نعیم کا آبائی شہر ہے میں نے ابن رشد گرلز کالج سے 1978میں گریجویشن کی، 1977میں میری منگنی نعیم سے ہوئی یہ میرے بھائی کے دوست تھے، ہم بہنوں نے ان کا نام لمبے کانوں والا فوجی رکھا تھا۔ یہ بڑی مزیدار داستان ہے۔ موقع ملا تو آپ کو ”فوجی کی بیوی“ میں ضرور سناؤں گی۔  ”ہونہار بروا“ دراصل میرے چاروں بچوں کی داستان ہے۔ ابتداء میں نے آخری بیٹی عروضہ سے کی ہے۔کیوں کہ ان تینوں میں سب سے ذہین اور محنتی عروضہ، سائر ہ ذہین ہے، ارسلان صرف محنتی ہے اور ارمغان کی صرف یاداشت  بہت تیز ہے  ایک رات پہلے پڑھا ہوا سبق وہ فل سٹاپ اور کامے تک لکھ سکتا ہے۔ 
          نعیم کی پوسٹنگ حیدرآباد سے کوئٹہ ستمبر 1991میں ہوئی، درمیان میں نعیم ڈیڑھ سال کے لئے سیاچین پوسٹ ہوئے۔ لیکن ہم لوگ  کوئٹہ ہی میں رہے۔ سیاچین کے بعد نعیم نے اپنی پوسٹنگ واپس کوئٹہ کروا لی۔ کوئٹہ ایسی جگہ ہے جہاں کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے افسر یا جوان کے علاوہ کوئی پوسٹ ہونا نہیں چاہتا اور فوج کی پالیسی کے مطابق، کوئٹہ کے رہنے والے کو ئٹہ صرف دو سال کے لئے یا پھر  Compassionate Groundپر ہی پوسٹ کیا جاسکتا ہے۔ نعیم کا تعلق کوئٹہ سے اس طرح تھا کی ان کے والد فوج میں تھے۔ یہ غالباً پانچویں جماعت سے نویں تک کوئٹہ میں رہے۔ دسویں کا امتحان انہوں نے میرپورخاص سے دیا۔  لہذا کوئٹہ ان کے لئے دوسرا گھر سمجھیں۔  کوئٹہ سے ہم لوگ اٹک آئے تو گرمیوں کی چھٹیوں میں میرپوخاص جانا جوئے شیر لانے سے کم نہ تھا۔چنانچہ ہم، مری نتھیا گلی، ایبٹ آباد گھومنے پھرنے جاتے۔
          لہذا جولائی میں ہم اپنے ٹور پر نکلے، موٹر وے ان دنوں نئی نئی بنی تھی ہم نے غلطی سے گاڑی موٹر وے پر موڑ دی۔ پنڈی سے لاہور تک کا سفر ایک تھکا دینے والا سفر تھا جو بالکل کراچی سے کوئٹہ  کے سفر سے ملتا جلتا تھا۔پوری سڑک پر صرف ہم نہ کوئی آدم نہ آدم زاد، کہیں کہیں راستے میں سڑک پر کام کرنے والے لوگ یا اوور ٹیک کرتی ہوئی اکا دکا گاڑیاں نظر آتیں، اس سے کہیں بدرجہا بہتر، جی ٹی روڈ کا سفر تھا۔ بہرحال کلر کہار کے پاس ہمیں ایک کھچوا سڑک پار کرتا نظر آیا۔ عروضہ  نے دیکھا تو شور مچا دیا کی ایک Living Thing مل گئی نعیم نے گاڑی روک کر کچھوا پکڑا، عروضہ کی ضد کہ کچھوا پسنجر سیٹ کی پیروں کی جگہ میں رکھا جائے جہاں میں بیٹھی، مجھے کچھوے سے ڈر بھی لگتا  اور گھن بھی آتی۔ بہرحال طے پایا کہ کچھوا ہم واپس چھوڑ دیں یا ڈکی میں رکھیں اور واپسی پر پھر کوئی نہ کوئی کچھوا مل جائے گا ہم لے لیں گے۔ عروضہ رسک لینے پر تیار نہ تھی، چنانچہ وہ کچھوا ڈکی میں رکھنے پر تیار ہو گئی۔ ڈکی میں موجود سامان کو ایک طرف کھسکایا۔  کچھوے کو پانی اور بلحاظ حجم کچھوا دو دن کے راشن کے ساتھ رکھ دیا۔ اور ہم چل پڑے۔کچھوا ڈکی میں کیا رکھا کہ ہماری مصیبت آگئی ہر پچاس کلو میٹر کے بعد کچھوے کو دیکھا جاتا کہ وہ زندہ ہے کھانا کھا رہا ہے، پانی پی لیا ہے۔ جہاں راستے میں ہم ریسٹ کرتے کچھوے کو زمین پر چھوڑا جاتا تاکہ وہ ہماری طرح  ٹہل کر اپنی ٹانگیں سیدھی کر لے۔ خدا خدا کر کے ہم نعیم کے چچا کے گھرلاہور پہنچے وہاں کچھوے کو صحن میں چھوڑا۔ تو مرغوں نے کچھوے کو دشمن سمجھ کر اس پر حملہ کر دیا اور ٹھونگیں مارنی شروع کر دیں۔ اب عروضہ کو سمجھ نہ آئے وہ کیا کرے آخرکار کچھوے کو ٹوکرے میں ڈھک کر اس پراینٹ رکھ دی۔ تو مرغیوں نے ٹوکرے کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔وہ حیران ہو کر ٹوکرے کو ٹھونگیں مارتیں کہ اُن کے میٹرنٹی ہوم میں یہ کون مردوا گھسا ہوا ہے۔
          لاہور میں ہم  1988میں سال رہے پھر دسمبر میں نعیم کی والدہ  کی وفات پر نعیم نے اپنی پوسٹنگ گھر کے نزدیک حیدرآباد کروا لی۔ لاہور میں گھومنے کی بے شمار جگہیں ہیں۔ طے یہ پایا کے رشتہ داروں اور پرانے دوستوں کو ملنے کے علاوہ  چڑیا گھر  اور واپسی میں جی ٹی روڈ سے واپس جاتے ہوئے۔ بادشاہی مسجد اور یادگار پاکستان دیکھیں گے۔چڑیا گھر میں عروضہ کا واحد  بچپن پسندیدہ جانور ”ہاتھی“ ہے۔ کوئیٹہ پوسٹنگ کے وقت ہم کراچی سے بذریعہ کارگئے تھے تو کراچی چڑیا گھر میں۔ ایک ہاتھی کے چھوٹے بچے نے عروضہ سے لے کر پاپ کارن کھائے۔ تب سے ہاتھی عروضہ کا  پسندیدہ جانور ہو گیا۔ کوئٹہ پہنچ کر عروضہ نے ضد شروع کردی کہ اسے ہاتھی کا بچہ ”ٹم ٹم“ چاہیئے۔  
          ”ٹم ٹم“ عروضہ کا بچپن سے دوست ہے۔ جب وہ ڈیڑھ سال کی تھی تو نعیم نے اسے باقی بچوں کی طرح کہانیا ں سنانی شروع کر دیں۔ جس کا اہم کردار،  ہاتھی ’کا بچہ ’ٹم ٹم“  تھا جس پر بیٹھ کر عروضہ جنگل کے دوسرے سرے پر اپنی دوست سے ملنے جاتی، کہانی کہانی میں نعیم، نظمیں، گنتی اور حساب  سکھاتے،اس طرح بچوں کی تربیت بھی ہوتی اور وہ تعلیم بھی حاصل کرتے۔ آج کل نعیم اپنی نواسی کو اسی کہانی کا ری پلے ماڈرن انگلش نرسری رہائم، میتھ وغیرہ کے ساتھ سنا رہے ہیں۔ بہرحال  کراچی کے ”ٹم ٹم“  نے عروضہ کو باقی جانوروں کے ساتھ، ”ٹم ٹم“  رکھنے کی خواہش بیدار کر دی۔ دونوں باپ بیٹی نے  1991ستمبر میں فیصلہ کیا کہ عروضہ جتنے پیسے جمع کرے گی اُتنے اُس میں نعیم اور میں ملائیں گے اور پھر ہاتھی کا بچہ خریدیں گے جو نیا نیا پیدا ہوا  افریقہ سے چھ ہزار کا ملے گا یا نعیم کے کلاس فیلو اشرف انکل جو افریقہ میں ہیں جنگل سے پکڑ لیں گے۔ لائسنس کی فیس، گورنمنٹ کی اجازت اور بحری جہازکا افریقہ سے کراچی تک کا کرایہ۔کراچی سے کوئٹہ تک کا ٹرک کا کرایہ، ہاتھی کی رہائش کا کمرہ  وغیرہ کے اخراجات اُس وقت حساب لگائیں گے۔ 

چنانچہ عروضہ نے بازار سے سب سے بڑی گلک خریدی اور بچت شروع  ہو گئی۔ جتنے پیسے وہ ملاتی اتنے نعیم اور مجھے بھی ملانے پڑتے۔ عید ی۔ امتحان پاس ہونے پر نقدی۔ آنے والے مہمانوں کی طرف سے دئیے جانی والی رقوم سب اُس گلک کی نذر ہونے لگیں۔  روزانہ حساب بنایا جانے لگا۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ عمران خان اپنی والدہ کی یاد میں کینسر ہسپتال بنانے کوئٹہ آیا  آرمی پبلک سکول سٹاف کالج  بھی آنا تھا مگر وقت کی کمی کے باعث غالباً نہیں آیا  تمام بچوں نے اپنی بچت ہسپتال کو دی عروضہ نے بھی اپنی پوری گلک  ہسپتال کی نذر کر دی۔ گلگ توڑنے لگے تو عروضہ نے کہا ایسے ہی بھجوا دیں توڑیں نہیں اور ایک کاغذپر لکھے مکمل حساب کے ساتھ کہ کس کس نے اس میں ہاتھی کا بچہ ”ٹم ٹم“  خریدنے کے لئے   گلک میں رقم ڈالی ہے جو غالباً ڈیڑھ سال میں 2,753/-روپے بن چکی تھی۔ عمران خان نے اپنی ماں کی یادگار بنانے کے لئے اپنی تمام جمع پونجی زمین خریدنے اور عمارت کا سٹرکچر بنوانے میں لگا دی۔ صدقہ، فطرات، نذر و نیاز مسلمانوں نے دئیے اور ڈونیشن غیر مسلم سے ہسپتال تعمیر ہوا۔ لیکن حیرت ہوتی ہے کہ عمران خان نے پہاڑی پر ہزاروں کنال کا بنی گالہ میں محل بنانے کے لئے رقم کہاں سے لی؟ 
          لاہور میں گھومنے کے بعد بادشاہی مسجد، شاہی قلعہ اوریادگار پاکستان گھومنے کے بعد ہم دو بجے گجرانوالہ پہنچے جہاں نعیم کی ایک یونٹ تھی جس میں انہوں نے سروس کی تھی۔ یونٹ آفیسر نے میس میں ہمارے رہنے کا انتظام کیا۔ نعیم اور ان کے دوست گالف کھیلنے چلے گئے ہم سب ان کے دوست کے ہاں پانچ بجے چائے پر گئے۔ مغرب کے وقت واپس آئے تو ہمارے گیسٹ روم کے باہر  لوگوں کا رش پوچھنے پر معلوم ہوا کہ ایک خوفناک سانپ ہمارے کمرے میں گھس گیا ہے۔ روم اٹینڈنٹ نے درواز بند کر دیا ہے اور کسی کو اندر نہیں جانے دے رہا، سانپ مارنے والی پارٹی بھی کھڑی ہے۔ سانپ کا سن کر عروضہ ہائپر ہو گئی کہ میں پکڑتی ہوں۔ پارٹی انچارج  اسے خوفزدہ کرے کہ بیٹی بہت خوفناک سانپ ہے۔ اندر مت جائیں۔ تھوڑی دیر بعد نعیم آگئے۔ انہوں نے سانپ پکڑنے والی پارٹی کودیکھا اور پو چھا ”چاند پر جانے کا ارادہ ہے“  نائب صوبیدار انچارج نے جواب دیا،”نہیں سر، یہ سنیک کلنگ پارٹی ہے“۔  نعیم  نے انچارج کے ہاتھ سے چار فٹ کی چھڑی لی اور عروضہ کے ساتھ، گیسٹ روم میں داخل ہوئے۔ تھوڑی دیر بعد عروضہ سانپ ہاتھ میں پکڑ کر نکلی، 

 پارٹی انچارج اور باقی لوگ حیران رہ گئے۔ پارٹی انچارج بار بار کہے سانپ کو نیچے ڈال دیں اسے مارنا ہے۔ نعیم نے سمجھایا کہ اس کے دانت نکال دئے ہیں اب یہ تین مہینے تک کے لئے صرف کھیلنے والا سانپ ہے۔ یہ ایک پانچ فٹ لمبا کوبرا سانپ تھا۔ عروضہ کی خوشی کے مارے برا حال کہ ایک اور
Living Thingمل گئی جو سب سے اہم ہے۔  نعیم نے وہاں سانپ پکڑنے والی پارٹی کو بغیر مارے سانپ پکڑنا سکھایا  انہوں نے کہاں سے سیکھا یہ الگ داستان میں سنئے گا۔  دوسرے دن یونٹ سے ایک چھوٹا سا بکس بن کر آگیا جس کے اوپر ہوا کے سوراخ تھے۔ یہ  ”وائیکنگ“ کوبرا کا گھر تھا،  اس نے ہمارے ساتھ اٹک جانا تھا۔ 
          گجرانوالہ سے ہم  جہلم آئے جہاں نعیم کی لوکیٹنگ بیٹری تھی جس کو نعیم نے سیاچین کے بعد کوئٹہ میں کمانڈ کیا تھا۔ یہاں ہم دو دن رہے۔ کیونکہ نعیم جہلم میں 1980سے 1983تک رہے۔ یہاں ان کے کافی سویلین دوست بھی تھے اور گالف گراونڈ بھی۔ یہاں ہم اپنے پرانے گھر بھی گئے۔جہاں نعیم کی موٹر سائیکل چوری ہوئی تھی۔ سائرہ کو وہ واقعہ فوراً یاد آگیا۔ گھر میں انفنٹری کے ایک میجر صاحب رہ رہے تھے انہوں نے ہمیں چائے پلائی۔ سائرہ نے موٹر سایکل چوری ہونے کی پوری روئیداد ان کو سنائی۔ سائرہ ان دنوں ڈھائی سال کی تھی۔ ہم اُس کی یاداشت پر حیران رہ گئے۔ میجر صاحب کے دو چھوٹے چھوٹے بچے تھے ایک بیٹی سات سال اور بیٹا چار سال دونوں نے بڑے مزے سے یہ واقعہ سنا جب سائرہ واقع سنا چکی تو بیٹا کہنے لگا باجی اور کہانی سنائیں۔ ہم سب کھلکھلا کر ہنس پڑے۔
جہلم سے ہم لوگ منگلا کینٹ گئے۔ یہاں نعیم کی وہ یونٹ تھی جس میں وہ حیدر آباد میں سیکنڈ ان کمانڈ رہے۔ یہاں ہم نے منگلا ڈیم اور دیگر تفریحی مقامات دیکھے۔ بچوں کا سب سے پسندیدہ مقام سوئمنگ پول تھا۔ لیکن ایک بات وہ یہ کہ بچے اپنی چھٹیوں کا کام ساتھ ساتھ کرنے کے علاوہ  مضمون ”میں نے چھٹیا ں کیسے گذاریں“ وہ بھی روزانہ کے حساب سے لکھ رہے تھے۔ نعیم کی ہدایات تھیں کہ جب بھی ہم گھومنے کے لئے اپنے شہر سے باہر جائیں گے بچے اس پر مضمون لازماً لکھیں گے، جس پر دو اچھے مضمونوں، کم غلطیاں،اہم واقعات اور خوبصورت جملوں پر الگ الگ انعام ملتا یہ اور بات کہ چاروں بچے کوئی نہ کوئی انعام حاصل کر لیتے۔  کھیل کھیل میں تعلیم اور  بچوں کی نفسیات نعیم کا پسندیدہ موضوع ہے لیکن وہ مغربی نفسیات سے زیادہ متاثر نہیں۔ اُن کے خیال میں دس بہترین باتوں سے سمجھانے کے بجائے ، ایک جوتا یا تھپڑ  بچے کو زیادہ سمجھ دلاتا ہے۔ ”کھلاؤ سونے کا نوالہ اور نقصان دہ شرارت پر دیکھو شیر کی نظر سے“  جس سے میں متفق کبھی نہیں رہی لیکن کیا کروں میری واحد مجبوری، بیوی ہونا ہے۔

اب نعیم کی نواسی نے ، نعیم کو لوہے کے چنے چبوائے ہوئے ہیں اور میں سوچتی ہوں کہ باپ اور نانا میں کتنا فرق ہوتا ہے ۔ 


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ہونہار برِوا -7 - زیرِطباعت
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منگل، 7 جنوری، 2014

ہونہار بِروا - 2


پانچویں کلاس کے بچوں سے تقریری مقابلہ شروع ہوا۔موافق میں پہلی تقریر ارمغان نے کی اور مخالفت بل میں ارسلان۔باقی بچے بھی ترتیب سے آتے رہے۔ اب تک ارمغان اور ارسلان پہلی پوزیشن پر جارہے تھے۔ آخرکار کلاس ون کی عروضہ نعیم کا نام پکارا گیا۔ عروضہ پردے کے پیچھے سے سٹیج پر آئی۔ڈائس کے سامنے آکر جھک کر سب کو سلام کیا۔نعیم پرنظر پڑی تو سکھائے ہوئے سبق کوبھول کر ہنس کر نعیم کو ہاتھ ہلا کے خوشی کا اظہار کیا اور ڈائس کے پیچھے رکھی ہوئی کرسی پرکھڑی ہو کراپنے مخصوص سٹائل سے تقریر شروع کی۔ مجھے  نہ صرف اس کی تقریر زبانی یاد تھی بلکہ اُس کا ایک ایک ایکشن بھی۔ تقریر کے خاتمے پر اُس نے شعر پڑھا  اورتالیوں کی گونج نے بتایا کی عروضہ نے معرکہ مار لیا ہے، یو ں وہ اپنے بھائی  ارمغان کو شکست دے کر پہلی پوزیشن حاصل کر چکی تھی۔کلاس ون سے لے کر کلاس تھری تک اُس نے اردو اور انگلش تقریری مقابلوں لگاتار پہلی پوزیشن لے کر ہیٹ ٹرک مکمل کی اوراس پر کلاس ففتھ تک اردو اور انگلش تقریری مقابلوں میں حصہ لینے پر پابندی لگ گئی۔کلاس فورتھ میں اُس نے۔ حمد اور نعت کے مقابلے میں حصہ لیا۔وہاں ہمیں معلوم ہوا کہ چڑیا کی طرح چہکنے والی، کوئل کی طرح کوک بھی سکتی ہے۔حمد، نعت اور غزل کے مقابلوں میں بھی وہ پہلی اور دوسری پوزیشن پر رہی۔

                کوئٹہ میں سردیوں میں غضب کی سردی پڑتی ہے اور بچوں کو سردی سے بچاؤ کے لئے بہت احتیاط کرنی پڑتی ہے لیکن جب برف باری ہوتی ہے تو بچے ساری احتیاط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اُس وقت تک برف میں کھیلتے رہتے ہیں جب تک وہ گیلے نہ ہوجائیں، نتیجتاً، کھانسی اور بخار۔ چنانچہ 1991دسمبر کی برف باری میں عروضہ بھی بیمار ہوگئی ڈاکٹر نے  سینے کا ایکسرے تجویز کیا۔ میں نے اُسے بتایا کہ کل آپ کا ایکسرے ہوگا اُس نے پوچھا کہایکسرے کیا ہوتا ہے میں نے اُسے بتایا کہ ایکسرے میں سینے میں جو کچھ ہوتا ہے اُس کی تصویر آتی ہے اُس سے ڈاکٹر کو اندازہ ہوجاتا ہے کہ بچہ کیوں بیمار ہوا ہے۔عروضہ،”لیکن ماما اُس میں تو آپ کی تصویر آئے گی“ میں نے پوچھا،”کیوں میری تصویر کیوں آئے گی“۔ ”ماما اِس لئے کہ میرے دل میں آپ رہتی ہیں“ عروضہ کے معصومانہ جواب پر مجھے اُس پر بے انتہا پیار آیا۔

            سب سے یادگار سال 1993تھا نعیم سال کے لئے اپنی یونٹ کے سیکنڈ اِن کمانڈ بن کر سیاچین چلے گئے عروضہ کلاس تھری میں تھی تقریر کا اعلان ہو چکا تھا اب تقریر لکھ کر دینے والا کوئی نہیں تھا۔ سیاچین بات کرنا بہت مشکل تھی۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا تھاکہ اچانک تقریر سے ہفتہ پہلے نعیم سے با ت ہو گئی میں نے انہیں تقریر کاعنوان ”دولت انسانی اقدار کی قاتل ہے“ یہ عروضہ اور ارمغان کے لئے  اور " عورتیں بہترین ٹیچر ہوتی ہیں "  ارسلان اور سائرہ کے لئے ، لکھوا دیا۔ نعیم نے فوراً دو موافقت میں اور دومخالفت میں تقریر یں لکھیں۔اور اسی دن چھٹی جانے والوں کے ہاتھ اسے لفافے میں ڈال کر سکردو بھجوایا۔ جہاں ایک ہفتے سے ان کی یونٹ کے آفیسر میجر پرویزچھٹی پر کوئٹہ آنے کے لئے موسم صاف ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔جنھیں لفافہ صبح صبح صوبیدار محمداقبال او سی رئیر نے دیا۔ میجر پرویز روزانہ کی طرح تیار ہو کر ائرپورٹ پر پہنچے۔ فضا میں جہاز کی گونج سنائی دی۔

            اچانک شمال کی جانب سے بادلوں میں ذرا سا رخنا پڑا اور وہاں سے ایک بوئینگ داخل ہو کر سکردو ایر پورٹ اترا  جس پر ہفتے سے انتظار کرتے ہوئے خوش قسمت مسافر سوار ہوئے اور ساڑھے آٹھ بجے وہی جہاز سکردو سے اڑ کر اسلام آباد ایرپورٹ پر اترا اور نو بجے اسلام آباد کوئیٹہ کی فلائیٹ پر میجر پرویز نے بورڈنگ کارڈ لیا۔تین بجے میجر پرویز اپنی مسز اورتین سالہ بیٹی کے ساتھ ہمارے ہاں آئے تقریر  دینے آئے اور لفافہ دیتے  ہوئے انہوں نے بچوں کو کہا کہ اگر آپ لوگوں نے پہلا انعام نہیں لیا تو میری ساری محنت بے کار جائے گی تقریر کے دن وہ اپنی مسز کے ساتھ سکول آئے۔عروضہ کے لئے نعیم نے خاص طور پر تقریر لکھی کیونکہ، اُس تقریر کے جیتے ہی اُس کی لگاتار پہلی پوزیشن حاصل کرنے سے ہیٹ ٹرک مکمل ہو جاتی۔ تقریر کے خاتمے پر ا’س نے شعر پڑھا۔”باپ بڑا نہ بھیّا،سب سے بڑا روپیّہ“  تالیوں کے شور نے  اُس کے جیتنے کا اعلان کر دیا۔ چاروں بچوں نے پہلی اور دوسری پوزیشن حاصل کیں،اُن کے جیتنے کی سب سے زیادہ خوشی میجر پرویز کو ہوئی۔ میجر پرویز کی مسز کا تعلق ہزارہ قوم سے تھا، بہت نفیس خاتون اور کوئٹہ کی وکیل تھیں،  یحییٰ بختیار کی رشتہ دار تھیں یوں سمجھیں کہ زیبا بختیار کی کاپی تھیں ،پرنسپل  بریگیڈئر (ر)  چنگیزی، اُن کے انکل تھے چائے پر میجر پرویز نے انہیں تقریر کے سفر کی کہانی سنائی کہ یہ تقریریں سیاچین سے آئی ہیں۔ پرنسپل نے عروضہ کو اپنی جیب سے سو روپے انعام دیا اور کہا کہ میں سمجھتا تھا کہ صرف ماں ہی بچوں کی تعلیم کی طرف توجہ دے تو بچے قابل نکلتے ہیں یہاں تو باپ بھی بچوں کی تربیت کے لئے اُتنی ہی محنت کر رہا ہے۔

                 عروضہ کو ہر قسم کے جانوروں سے بڑی محبت تھی۔اس کی غالباًبنیادی وجہ وہ کہانیاں تھیں جو  نعیم اسے بچپن میں سناتے تھے۔اُس کی خواہش کے مطابق کوئٹہ میں ہمارا گھر ایک چڑیا گھر تھا۔جس میں صرف ہاتھی کے بچے ڈبّو کی کمی تھی ورنہ مرغیاں، بطخیں، تیتریاں، بلیاں، کتے،کچھوے اور مچھلیاں سب موجود تھے اور یہ سب ایک ہی گھاٹ سے پانی پیتے بلی کی کیا مجال کہ وہ اس کے سامنے دندناتے چوزوں کی طرف برُی آنکھ سے دیکھے۔چوزے مکھیوں کے پیچھے بھاگتے اور سوئی ہوئی بلی کے اوپر سے چھلانگیں مارتے اور بلی ایک آنکھ کھول کر اپنے خواب ِ استراحت میں خلل ڈالنے والے شر پسندوں کو دیکھتی اور پھر آنکھیں بند کر لیتی البتہ مکھیوں کے اضافے سے چوزوں کے طوفانِ بدتمیزی میں اضافہ ہوجاتا تو وہ انگڑائیاں لیتی ہوئی اٹھتی اور پلنگ کے نیچے جا گھستی۔

ایک مخلوط النسل لیبریڈور کتے ّ”ایرک“اور بازار سے خریدے جانے والے چوزوں کی نسل میں سے بچنے والے آخری چشم و چراغ” سیبر“کی دوستی فقید المثال تھی۔ ایرک کو سائرہ کی کلاس فیلو  سونیا مشوانی، کرنل ڈاکٹرمشوانی کی بیٹی نے  ایک ماہ کا بچہ دیا تھا۔ سیبر سوئے ہوئے ایرک کے سر پر سوتا اور بلی ایرک کے ڈربے میں اُس کے ساتھ سوتی، عروضہ نے ہر جانور اور پرندے کا نام رکھا ہو اتھا۔ ”ایرک“، چوزے کو چاٹ چاٹ کر اپنی لذتِ کام ودہن کی تسکین کرتا اور” سیبر“ اس کے بدلے اُس کے کندھوں پر سوتا اور سارے گھر کی سیر کرتا۔ایک دن عروضہ میرے ساتھ بازار گئی میں نے بچوں کو گاڑی ہی میں بیٹھے رہنے کا کہہ کر اتر گئی واپس آئی تو دیکھاآوارہ بلی کا ایک بچہ اُس نے گود میں اُٹھایا ہوا ہے۔یہ بچہ زخمی تھا کیونکہ اسے بازار میں گلی کے بچوں نے عروضہ کے سامنے پتھر مارے تھے۔اور بچہ گھسٹ گھسٹ کر چل رہا تھا۔عروضہ نے چاچا ڈرا ئیور سے کہہ کر بچوں کو بھگوایا اور بلی کے بچے کو اُٹھا کر گاڑی میں رکھ لیا۔عروضہ کلاس ون میں تھی اُس نے اُس بچے کی اتنی تیمارداری کی کہ وہ ٹھیک ہو گیا۔جنگلی بلی کا وہ بچہ ”کٹو“ گھر کے گیٹ پر عروضہ کا انتطار کرتا اور جب وہ سکول سے آتی تو اس کے پاؤں میں لپٹتا۔ ” کٹو “ واحد جانور تھا جو ہمارے بیڈ روم میں اپنی ٹوکری میں سوتا۔

                نعیم گالف کھیل کر واپس آتے،  تو ہم دونوں میاں بیوی واک پر نکلتے  ”ایرک“  بھی ساتھ ہوتا۔ایک دن عروضہ بھی ہمارے ساتھ واک پر نکلی۔تھوڑی دور جا کر ہمیں میاؤں میاؤں کی آواز آئی۔مڑ کر دیکھا تو ’’کٹو“ تھی جو سڑک  پر دوڑتی آرہی تھی۔ہم اپنے گھر سے تقریباً  پچاس گز دور  جاچکے تھے۔ ’’کٹو“  ہمارے پاس پہنچی عروضہ نے اُسے گود میں اُٹھا لیا۔ میں نے عروضہ کو کہا کہ وہ اسے نیچے اتار دے اور اسے ہمارے پیچھے آنے دے۔عروضہ نے اسے نیچے اتار دیا اور ”ایرک“  کو حکم دیا کہ وہ ’’ کٹو “ کا خیال رکھے۔ہم دور نکلتے تو  ”ایرک“  ہمارے سامنے آ کر بھونک کر ہمیں رکنے کا کہتا۔جب ’’کٹو“  ہمارے پاس پہنچ جاتی تو ہم آگے چلتے۔گھر کے نزدیک ’’ کٹو “ کافی پیچھے رہ گئی۔ تو  ”ایرک“  نے ہمیں روکا۔عروضہ نے ”ایرک“  کو کہا کہ جاؤ اسے لے آؤ۔ ”ایرک“  لپک کر گیا اور ’’ کٹو “ کو اپنے منہ میں اسکی گردن سے پکڑ کر اٹھا کر لے آیا۔

تب مجھے معلوم ہوا کہ گھر کے تمام جانور اس کا کہنا مانتے ہیں اور اس کی وجہ یہ تھی کہ عروضہ ہر شام اور اتوار کو خصوصی طور پر تمام جانوروں اورپرندوں کو کہانی سناتی ور اُن سے باتیں کرتی۔ہمارے گھریلو چڑیا گھر میں  پانچ کتے بھی تھے جن میں دو جرمن شیپرڈ (بُلِّٹ  اور شیرا)، دو چھوٹے سفید روسی پوڈلز(کوڈو اور ٹینا) اور ایک السیشن کتیا (شہپر) تھی۔ 

”ایرک“  ایک دن گھر سے باہر گیا تو اسے کسی نے زہر دے دیا۔ نعیم  اُن دنوں فوجی  مشقوں پر سبّی گئے ہوئے تھے۔ ہمار ا گھر کینٹ میں ہزارہ کالونی کے بالکل کونے پر تھا۔ وہاں چوکیدارانہ نظام کے باوجود چوریاں بہت ہوتی تھیں۔چنانچہ نعیم نے اپنے ایک دوست خان کو فون پر کہا اُس نے عاریتاً شہپردے دی۔ صبح  ایرک کی موت ہوئی اور شام کو شہپر آگئی اور نو بجے رات کوشہپر کے بھونکنے، کسی کے تیزی سے دوڑنے اور دیوارکی اینٹیں گرنے پر معلوم ہو ا کہ ایرک کی موت اور چوری کے لئے صحن میں آنے والا اتفاقی واقعہ نہیں تھا۔دوسرے دن شہپر ٹوٹی ہوئی دیوار سے باہر نکل گئی۔ کچلاک میں رہنے والے نعیم کے کلاس فیلو نے دو سفید روسی پوڈلز پپی بھجوا دئیے اور نعیم کے بہنوئی عبدالخالق نے دو جرمن شیپرڈپپی بھجوا دئیے اور خان نے چار دن بعد زخمی شہپر بھجوا دی۔شہپر کا عروضہ نے علاج کیا وہ ہمارے گھر کی ہو گئی۔نعیم مشقوں سے واپس آئے۔عروضہ کو بڑا سمجھایا کہ دو جرمن شیپرڈ چھوڑ کر باقی تمام کتے واپس کر دیتے ہیں۔ عروضہ نے نعیم کی ہر منطق کو ماننے سے انکار کر دیا اور یوں شہپر کی سربراہی میں باقی چار کتوں کے بچے دیگر پرندوں کے ساتھ پلنے لگے۔ جرمن شیپرڈدیکھتے ہی دیکھتے شہپر سے اونچے ہو گئے۔

                ایک دن صبح عروضہ کے رونے کی آواز آئی۔ معلوم ہوا کہ پانچوں کتوں میں سے کسی نے  ایک کچھوا کھا لیا۔ہمارے گھر میں جب کوئی نیا جانور آتا عروضہ اس کا سب کتوں سے تعارف کراتی۔ وہ اسے گھوم کر اور سونگھ کر دیکھتے، پھر دور بیٹھ کر لالچی انداز میں دیکھتے رہتے ۔عروضہ اُسے سب کے پاس باری باری لے جاتی اور ہاتھ اٹھا کر مارنے کے انداز میں ڈانٹ کر بتاتی کہ اب یہ یہاں رہے گا اسے نہ تنگ کرنا اور نہ ہی کھانا۔یہ کچھوا،رات کو ہی عروضہ، ڈولی کی سہیلی سونیا کے گھر سے لائی تھی اور اس کا تعارف کرانا بھول گئی۔ اور اسے دوسر ے کچھووں کے ساتھ رکھ دیا۔ اب انکوائری  شروع ہوئی ہمارا شک بُلِّٹ پر تھا۔کچھو ے لان میں تھے اور باقی جانور گھر کے پچھلے حصے میں باڑے میں رہتے تھے۔سب سے پہلے بلٹ کو لایا۔ اُسے کھچوا سنگھایا گیا اور پوچھا یہ کس نے کھایا ہے؟  بُلِّٹ نے  ایک شانِ بے نیازی سے ہماری طرف دیکھا اور ایک طرف کھڑا ہو کر دم ہلانے لگا۔ شیرا نے بھی کوئی توجہ نہ دی البتہ شہپر نے کھچوے کو سونگھنے سے انکار کر دیا اور آنکھیں نیچی کر کے ایک کونے میں جا بیٹھی۔ یوں مجرم پکڑا گیا۔ اس حادثے کو ٹینا (پوڈل)نے محسوس کیا وہ کچھوے کو سونگھتی عروضہ کے پاؤں میں لوٹتی اور بھونکتی  اور شہپر کے پاس جا کر کھڑی ہو جاتی یوں ہمیں معلوم کہ ٹینا اِس وقوعے کی چشم دید گوا ہ ہے مگر مجرم کے خوف سے بیان نہیں دے رہی۔ایک دن صبح میں کھڑکی کے پاس کھڑی  اپنے بالوں میں کنگھی کر رہی تھی، موسم اچھا تھا میں نے گنگنانا شروع کیا۔ اچانک شیرا کھڑکی کے پاس آکی مجھ پر بھونکنا شروع کر دیا۔ میں شیرا کے اِس رویئے پر حیران رہ گئی کہ اِس کم بخت کو کیا ہوا؟ بعد میں سمجھ آئی کہ نامعقول مجھے مانگنے والی سمجھ کر بھونک رہی تھی۔

                جب عروضہ کلاس ففتھ میں آئی تو نعیم کی ٹرانسفر اٹک ہو گئی۔تمام جانور اور پرندے تقسیم ہو گئے۔صرف جرمن شیپرڈ (بُلِّٹ اور شیرا) لے کر ہم اٹک آگئے   اٹک آنے سے پہلے ہم تین دنوں کے لئے گھر کے سامنے آفیسر ز میس میں منتقل ہو گئے۔ ’’کٹو“  کیونکہ جنگلی بلی تھی چنانچہ وہ اسی گھر میں رہی۔ شام کو ہم واک کر رہے تھے۔ہم گھر کے پاس سے گزرے کہ  ’’کٹو “ بھی ہماری خوشبو سونگھ کرساتھ ہو لی اور ہمارے ساتھ میس  کے کمرے میں آگئی۔ اور تھوڑی دیر بعد بھاگ گئی۔رات کو کمرے  کے دروازے کے باہر میاؤں کی آواز آئی دیکھا تو  ’’کٹو“  بیٹھی تھی۔عروضہ سو رہی تھی اُٹھ گئی ہم باہر نکلے تو ’’کٹو“  ہمار ے آگے چلنے لگی اور ہماری رہنمائی کرتے ہو ئے گھر کے بند گیٹ کے سامنے آکر میاؤں میاؤں کرنے لگی۔صاف محسوس ہو رہا تھا کہ وہ ہمیں ہماری غلطی کا احساس دلا رہی تھی کہ ہم بھول کر غلط جگہ چلے گئے ہیں ہمارا گھر یہ ہے۔ہم نے سنا تھا کہ بلی مکان سے اور کتا مکین سے مانوس ہوتا ہے۔جو ’’ کٹو “ اور بعد میں دوسری بلیوں نے غلط ثابت کیا۔

                اٹک میں میرے سارے بچے سینئیر سیکشن میں تھے اور میں جونئیر سیکشن میں ٹیچر تھی بعد میں وائس پرنسپل بنی۔چاروں بچوں کو اِس بات کا احساس تھا کہ اُنہوں نے کوئی ایسی حرکت نہیں کرنی جس سے اُن کی ماں کو شرمندگی ہو۔ اٹک میں عروضہ نے نہ صرف اپنی غیر نصابی سرگرمیوں کی دھاک بٹھائی بلکہ سکول میں پہلی پوزیشن اُس نے اپنے اعصاب پر سوار کر لی۔اٹک کے گالف کلب میں بڑی بطخیں تھیں۔جو وہاں چھوٹے تالاب میں تیرتی رہتی تھیں۔یہ بڑی خونخوار تھیں خصوصی طور پر بچوں کی دشمن تھیں انہیں دیکھتے ہی گردن نیچے کر کے کسی ٹینک کی مانند حملہ کرتیں۔اب عروضہ نے ضد پکڑ لی کہ اِن میں سے ایک میں نے لینی ہے۔آخر کار نعیم بازار سے  ایک جوڑا خرید کر گھر لے آئے۔عروضہ نے باقی بہن بھائیوں سے مشورے کے بعد اُن کا نام ڈونلڈ اور ڈیزی رکھا۔  ڈونلڈ اور ڈیزی نے آتے ہی گھر میں دہشت پھیلا دی۔ یہاں تک کہ ان کے ٹینک نما حملوں نے بلٹ اور شیراکو بھی پسپائی پر مجبور کر دیا۔عروضہ نے انہیں مانوس کرنے کی بڑی کوشش کی اور اُن کے حملے میں زخمی بھی ہوئی۔لیکن آخر کار وہ عروضہ سے مانوس ہو گئے۔

ایک اتوار کی صبح  میں نے بیڈروم کی کھڑکی سے دیکھا عروضہ اپنی چھوٹی کر سی پربیٹھی تھی ڈیزی اس طرح  لیٹی تھی کہ اس کی گردن پوری زمین کے ساتھ لگی تھی اور وہ اپنی چونچ کے ساتھ عروضہ کے جوتے کو کھانے کی کوشش کر رہی تھی اور ڈونلڈ کسی کلاس میں بیٹھے ہوئے شریف بچے کی طرح عروضہ کی کہانی سُن رہا تھا جو وہ بچوں کے رسالے سے پڑھ کر اُسے سنا رہی تھی۔بلٹ اور شیرا، ڈونلڈ کی پہنچ سے دور بیٹھے تھے۔ بلٹ عروضہ کے پاس آنے کی کوشش کرتا تو ڈونلڈ اُس کی طرف دیکھتا۔ بلڈ واپس مڑ کر شریف بچے کی طرح اپنی جگہ پر واپس بیٹھ جاتا۔

                بلٹ اور شیرا کے خاندان میں دو السیشن پپی کا اضافہ ہوا۔ جو نعیم نے اپنے دوست کو دے کر اُ س سے کالے لیبریڈور کے پپی کا جوڑا لیا۔ جن کے نام عروضہ نے لیلیٰ اور لٹو رکھا کیوں کہ۔لٹو کا کام اپنی دم کو پکڑنے کی کوشش میں لٹو کی طرح چکر کھاتے رہنا تھا۔ لیلیٰ کھانا کھانے کے بعد بچا ہوا کھانا زمین میں دبا کر بند کر دیتی تھی۔ جو بلٹ نکال کر کھا لیتا اُس کے بعد جب لیلیٰ کو بھوک لگتی تو وہ کھانے کی تلاش میں نالی کی شکل میں لان کھود ڈالتی۔دوسال کے اند رڈونلڈ اور ڈیزی  بیس بچوں کے کنبے کے سربراہ بن گئے۔اِن بڑی بطخوں کی ایک مکمل جوائینٹ فیملی تھی جن کا سربراہ ڈونلڈ تھا۔جو نہ صرف اُن سیاسی بلکہ ملٹری لیڈر بھی تھا۔ہمارے گھر کے قریب سے گذرنے والے  افراد،شیر نما بلٹ سے اتنا نہیں ڈرتے جتنا وہ ڈونلڈ اور اس کے سپاہیوں سے خوفزدہ ہوتے تھے۔ڈونلڈ اپنی پوری پلٹن کے ساتھ پوری کالونی کا چکر لگاتا۔

عروضہ کی چند سہیلیوں نے اِس سے ملنے کا پروگرام بنایا، چنانچہ انہوں نے عروضہ سے گھر کا ایڈریس پوچھا اُس نے انہیں بتا یا کہ سکول سے باہر نکلیں، پارک کے بعد سیدھے ہاتھ پر مڑیں اور سیدھے چلیں۔آگے بہت ساری بڑی بطخیں نظر آئیں گی اُن کے سامنے ہمارا گھر ہے۔وہ لڑکیاں ہمارے گھر کے لئے آئیں انہیں گھر نہیں ملا، انہوں نے ایک بچے سے پوچھا کہ بڑی بطخیں کہاں ہیں۔اِس وقت بطخیں ٹہلنے کے موڈ میں تھیں اوربچے نے انہیں تیسری گلی میں دیکھا تھا اس نے انہیں بتا دیا۔بچیاں بطخوں کے پاس پہنچیں اور پریشان ہو گئیں۔ کیوں کہ آدھی بطخوں کامنہ ایک طرف اور آدھی کا دوسری طرف تھا۔ایک بچی نے مشورہ دیا کہ ان کو بھگاتے ہیں یہ جس گھر میں جائیں گی وہ عروضہ کا گھر ہوگا۔ انہوں نے غلط فیصلہ کیا تھا۔

جو نہی انہوں نے بطخوں کو بھگانے کی کوشش کی، بطخوں کے بطخے، صف بنا کر بچیوں پر حملہ آور ہوئے وہ چینخیں مارتے ہوئے بھاگیں۔بطخوں کی آوازوں اور لڑکیوں کے شور نے عروضہ کو بتا دیا کہ کوئی اُس کی فوجوں کے قابو چڑھ چکا ہے۔عروضہ گھر سے باہر آئی تو بھاگتا ہوا لشکر دشمن نہیں بلکہ اُس کی سہیلیاں تھیں اُس نے حملہ آور بطخوں کو ڈانٹ کر روکا اور سہیلیوں کو پکارا، کمانڈر  ڈونلڈ،عروضہ کی آواز سنتے ہے سر جھکا کر شرمندگی سے اپنے  سنچورئین بریگیڈکے ساتھ ایک طرف کھڑا ہو گیا عروضہ سہیلیوں کو گھر لائی اُن کی خاطرتواضح کی، اتنے میں ساری  بطخیں اپنے ڈربے کی طرف آچکی تھیں عروضہ نے سہیلیوں کا بطخوں سے تعارف کروایا۔ سہیلیاں ڈرتے ڈرتے بطخوں کے پاس گئیں۔ بطخوں نے خاموش بیٹھ کر اُن کا استقبال کیا اور دوستی کر لی۔

                1999کی بہار میں ڈونلڈ فیملی کی بطخوں نے 70انڈے دیئے۔یوں ان کے ڈربے میں ایک پورا میٹرنٹی وارڈ قائم ہو گیا۔جس میں  شروع شروع میں سوائے ڈونلڈ کے تمام بطخے اپنی اپنی ماداؤں کی چہل قدمی کے وقت انڈوں پر بیٹھتے۔اور بعد میں ماداؤں سے انڈوں پر بیٹھنے کی ذمہ داری مکمل طور بطخوں نے  زبردستی لے لی۔کیونکہ وہ یہ بھول گئے کہ کون سی اُن کی مادہ کے انڈے ہیں اور کون سی دوسری مادہ  کے ہیں ۔چنانچہ ہم نے بطخوں کو زبردستی زنانہ میٹرنٹی وارڈ سے نکال کر اسے بند کر دیا اور ماداؤں نے اپنی اپنی جگہ سنبھالی۔ہم خوفزدہ تھے کہ اگر ان 70انڈوں سے چوزے نکلے تو کیا ہو گا؟ بہرحال عروضہ کو بہت سمجھانے کے بعد اُس نے اِن چوزوں کے پر نکلنے کے بعد تقسیم کا فیصلہ کیا۔اُس نے سب سے پہلے اُن سہلیوں کا انتخاب کیا جو جھگڑالو نہیں تھیں۔اُن کے گھر جا کر اِن چوزوں کے رہنے کی جگہ دیکھی۔اور ایک ہدایت نامہ برائے دیکھ بھال خود لکھا اور اس کی ایک ایک فوٹو کاپی اپنی اُن سہیلیوں کو دی۔جنہوں نے بطخ کے بچوں کا سرپرست بننا تھا یہ اور بات کہ صرف چار چوزے نکلے اور وہ بھی پر نکلنے سے پہلے اپنے بزرگوں کے ملکیتی جھگڑوں کے وقت پاؤں تلے آکر مارے گئے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ہونہار برِوا -7 - زیرِطباعت
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭